Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
45 verses
1تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی اور وہ لوگ اس را ت روتے ہی رہے
2اور کل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی ہائے کاش! ہم مصر ہی میں مر جاتے ! یا کاش اس بیابا ن ہی میں مر جاتے
3خداوند کیوں ہمیں ااس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کروانا چاہتا ہے پھر تو ہماری بیویاں اور بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہو گا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں
4پھر وہ آپس میں کہنے لگے آؤ ہم کسی کو اپنا سردار بنا لیں اور مصر کو لوٹ چلیں
5تب موسیٰ اور ہارون بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے سامنے اوندھے منہ ہو گئے
6اور نون کا بیٹا یشوع اور ینفنہ کا بیٹا لب جو اس ملک کا حال دریافت کرنے والوں میں سے تھے اپنے اپنے کپڑے پھا ڑ کر
7بنی اسرائیل کی ساری جماعت سے کہنے لگے کہ وہ ملک جس کا حال دریافت کرنے کو ہم اس میں سے گذرے نہایت اچھا ملک ہے۔
8اگر خدا ہم سے راضی رہے تو وہ ہم کو اس ملک میں پہنچائے گا اور وہی ملک جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے ہمکو دیگا
9فقط اتنا ہو کہ تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ اس ملک کے لوگوں سے ڈرو وہ تو ہماری خوراک ہیں ان کی پناہ ان کے سر پر سے جاتی رہی ہے اور ہمارے ساتھ خدا ہے سو انکا خوف نہ کرو
10تب ساری جماعت بول اٹھی کہ ان کو سنگسار کرو اس وقت خیمہ اجتماع میں سب بنی اسرائیل کے سامنے خدا کا جلال نمایاں ہوا
11اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ یہ لو گ کب تک میری توہین کرتے رہیں گے؟ اور باوجودان سب معجزوں کے جو میں نے ان کے درمیان کیے ہیں کب تک مجھ پر ایمان نہیں لائیں گے ؟
12میں انکو وبا سے ماروں گا اور میراث سے خارج کروں گا اور اور تجھے ایک ایسی قوم بناؤں گا جو ان سے کہیں بڑی اور زور آور ہو
13موسیٰ نے خداوند سے کہا کہ تب تو مصری جن کے بیچ سے تو ان لوگوں اپنے زور بازو سے نکال لے آیا یہ سنیگے
14اور اسے اس ملک کے باشندوں کو بتائیں گے انہوں نے سنا ہے کہ تو جو خداوند ہے ان لوگوں کے درمیان رہتا ہے کیونکہ تو اے خدا ! صریح طور پر دکھائی دیتا ہے اور تیرا ابر ان پر سایہ کیے رہتا ہے اور تتو دن کو ابر کے ستون میں اور رات کو آگ کے ستون میں ہو کر ان کے آگے آگے چلتا ہے
15پس اگر تو اس قوم کو ایک اکیلے آدمی کی طرح جان سے مار ڈالے تو وہ قومیں جنہوں نے تیری شہادت سنی ہے کہینگی
16کہ چونکہ خداوند اس قوم کو اس ملک میں جسے اس نے ان کو دینے کی قسم کھائی تھی پہنچا نہ سکا اس لیے اس نے ان کو بیابا ن میں ہلاک کر دیا
17سو خداوند کی قدرت کی عظمت تیرے ہی قول کے مطابق ظاہرہو
18کہ خداوند قہر کرنے میں دھیما اور شفقت کرنے میں غنی ہے وہ گناہ اور خطا کو بخش دیتا ہے لیکن مجرم کو بری نہیں کرے گا کیونکہ باپ داؤد کے گناہ کی سزا ان کی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک دے گا
19سو تو اپنی رحمت کی فراوانی سے اس امت کا گناہ جیسے تو ملک مصر سے لے کر یہا ں تک ان کو معاف کرتا رہا ہے اب بھی معاف کردے
20خداوند نے کہا کہ میں تیری درخواست کے مطابق معاف کیا
21لیکن مجھے اپنی حیات کی قسم اور خدا کے جلال کی قسم جس ساری زمین معمور ہوگی
22کیونکہ ان سب لوگو ں نے باوجود میرے جلال دیکھنے کے اور باوجود ان معجزوں کے جو میں نے مصر اور اس بیابان میں دکھائے پھر بھی دس با ر مجھے آزمایا اور میری بات نہیں مانی
23اس لیے وہ اس ملک کو جسے دینے کی قسم میں نے ان کے باپ دادا سے کھائی تھی دیکھنے بھی نہ پائیں گے اور جنہوں نے میری توہیں کی ہے ان میں سے بھی کوئی اسے دیکھنے نہیں پائے گا
24پر اس لیے کہ میرے بندہ کالب کی کچھ اور ہی طبیعت تھی اور اس نے میری پوری پیروی کی ہے میں اس کو اس ملک میں جہاں وہ ہو آیا ہے پہنچاؤں گا اور اسکی اولاد اس کی وارث ہوگی
25اور وادی میں تو عمالیقی اور کنعانی بسے ہوئے ہیں سو کل تم گھوم کر اس راستہ سے جو بحر قلزم کو جاتا ہے بیابان میں داخل ہو جاؤ
26اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا
27میں کب تک اس خبیث گروہ کی جو میری شکایت کرتی ہے برداشت کروں؟ بنی اسرائیل جو میرے برخلاف شکایتیں کرتے رہتےہیں میں نے وہ سب شکایتیں سنی ہیں
28سو تم ان سے کہہ دو کہ خداوند کہتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم ہے کہ جیسا تم نے میرے سنتے کہا ہے میں تم سے ضرور ویسا ہی کروں گا
29تمہاری لاشیں اسی بیابان میں پڑی رہیں گی اور تمہاری ساری تعداد یعنی بیس برس سے لے کر اس سے اوپر اوپر کی عمر کے تم سب جتنے گنے گئے اور مجھ پر شکایت کرتے رہے ۔
30ان میں سے کوئی اس ملک میں جس کی بابت میں نے قسم کھائی تھی کہ تم کو وہاں بساؤں گا جانے نہ پائے گا سوا یفنہ کے بیٹے کالب اور نون کے بیٹے یشوع کے
31اور تمہارے بال بچے جنکی بابت تم نے یہ کہا کہ وہ تو لوٹ کا مال ٹھہریں گے ان کو میں وہاں پہنچاؤں گا اور جس ملک کو تم نے حقیر جانا ہے وہ اسکی حقیقت پہچانیں گے۔
32اور تمہار ا حال یہ ہو گا کہ تمہاری لاشیں اسی بیابا ن میں پڑی رہیں گی
33اور تمہارے لڑکے بالے چالیس برس تک بیابان میں آوارہ پھرتے اور تمہاری زنا کاریوں کا پھل پاتے رہیں گے جب تک کہ تمہاری لاشیں بیابان میں گل نہ جائیں
34ان چالیس دنوں کے حساب سے جن میں تم اس ملک کا حال دریافت کرتے رہے تھے اب دن پیچھے ایک ایک برس یعنی چالیس برس تک تم اپنے گناہوں کا پھل پاتے رہو گے تب تم میرے مخالف ہو جانے کو سمجھو گے
35میں خداوند یہ کہہ چکا ہوں کہ میں اس پوری خبیث گروہ سے جو میری مخالفت پر متفق ہے قطعی ایسا ہی کروں گا ان کا خاتمہ اسی بیابا ن میں ہوگا اور وہ یہیں مریں گے
36اور جن آدمیوں کو موسیٰ نے ملک کا حال دریافت کرنے کو بھیجا تھا جنہوں نے لوٹ کر اس ملک کی ایسی بر ی خبر سنائی جس سے ساری جماعت موسیٰ پر کڑکڑانے لگی
37سو وہ آدمی جنہوں نے ملک کی بری خبر دی تھی خداوند کے سامنے وبا سے مر گئے
38پر جو آدمی اس ملک کا حال دریافت کرنے گئے تھے ان میں سے نون کا بیٹا یشوع اور یفنہ کا بیٹا کالب دونوں جیتے بچے رہے
39اور موسیٰ نے یہ باتیں سب بنی اسرائیل سے کہیں اور وہ لوگ زار زار روئے
40اور دوسرے دن صبح سویرے یہ کہتے ہوئے پہاڑ کی چوٹی پر چرھنے لگے کہ ہم حاضر ہیں اور جس جگہ کا وعدہ خداوند نے کیا ہے وہاں جائیں گے کیونکہ ہم سے خطا ہوئی ہے
41موسیٰ نے کہا تم کیوں اب خداوند کی حکم عدولی کرتے ہو ؟ اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا
42اوپر مت چڑھو کیونکہ خداوند تمارے درمیان نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کھاؤ
43کیونکہ وہاں تم سے آگے عمالیقی اور کنعانی لوگ ہیں سو تم رتلوار سے مارے جاؤ گے کیونکہ خداوند سے تم برگشتہ ہو گئے ہو اس لیے خداوند تمہارے ساتھ نہیں رہے گا
44لیکن وہ شوخی کر کے پہاڑ کی چوٹی تک چڑھتے چلے گئے پر خداوند کے عہد کا صندوق اور موسیٰ لشکر گاہ سے باہر نہ نکلے
45تب عمالیقی اور کنعانی جو اس پہاڑ پر رہتے تھے ان پر آ پڑے اور انکو قتل کیا اور حرمہ تک انکو مارتے چلے آئے۔