Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
41 verses
1باب نمبر 15اور خداوند نے موسیٰ سے کہا
2بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب تم اپنے رہنے کے ملک میں جو میں تم کو دیتا ہوں پہنچو
3اور خداوند کے حضور آتشیں قربانی یعنی سوختنی قربانی یا خاص منت کا ذبیحہ یا رضا کی قربانی گذرانو یا اپنی میعن عیدوں میں راحت انگیز خوشبو کے طور پر خداوند کے حضور گائے بیل یا بھیڑ بکری چڑھاؤ
4تو جو شخص اپنا چڑھاوا لائے وہ خداوند کے حضور نذر کی قربانی کے طور پر ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر میدہ جس میں چوتھائی ہین کے برابر تیل ملا ہوا ہو
5اور تپاون کے طور پر چوتھائی ہین کے برابر مے بھی لائے تو اپنی سوختنی قربانی یا ذبیحہ کے ہر برہ کے ساتھ اتنا ہی تیا ر کیا کرنا
6اور ہر مینڈھے کے ساتھ ایفہ کے پانچویں حصہ کے برابر میدہ جس میں تہائی ہین کے برابر تیل ملا ہو نذر کی قربانی کے طور پر لانا
7اور تپاون کے طور پر تہائی ہین کے برابر مے دینا تاکہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو ٹھہرے
8اور جب تو خداوند کے حضور سوختنی قربانی یا خاص منت کے ذبیحہ یا سلامتی کے ذبیحہ کت طور پر بچھڑا گذرانے
9تو وہ اس بچھڑے کے ساتھ نذر کی قربانی کے طور پر ایفہ کے تین تہائی حصہ کے برابر میدہ جس میں نصف ہین کے برابر تیل ملا ہوا ہو چڑھائے
10اور تو تپاون کے طور پر نصف ہین کے برابر ہین گذراننا تاکہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کی آتشیں قربانی ٹھہرے۔
11ہر بچھڑے اور ہر مینڈھے اور ہر نر برہ یا بکری کے بچہ کے لیے ایسا ہی کیا جائے ۔
12تم جتنے جانور لاؤ انکے شمار کے مطابق ایک ایک کے ساتھ ایسا ہی کرنا
13جتنے دیسی خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو کی آتشین قربانی گذرانیں وہ اس وقت یہ سب کا م اسی طریقہ سے کریں
14اور اگر کوئی پردیسی تمہارے ساتھ بودو باش کرتاہو یا جو کوئی پشتوں سے تمہارے ساتھ رہتا آیا ہو اور وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خشبو کی آتشین قربانی گذراننا چاہے تو جیسا تم کرتے ہو وہ بھی ویسا ہی کرے
15مجع کے لیے یعنی تمہارے لیے اور اس پردیسی کے لیے جو تم میں رہتا ہو رنسل در نسل دا ایک ہی آئین رہے گا ۔ خداوند کے آگے پردیسی بھی ویسے ہی ہو ں جیسے تم ہو
16تمہارے لیے پردیسیوں کے لیے جو تمہارے ساتھ رہتے ہیں ایک ہی شرع اور ایک ہی قانون ہو
17اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
18بنی اسرائیل سے کہہ جب تم اس ملک میں پہنچو جہاں میں تم کو لیے جاتا ہوں
19اور اس ملک میں روٹی کھاؤ تو خداوند کے حضور اٹھانے کی قربانی گذراننا
20تم اپنے پہلے گوندھے ہوئے آٹے کا ایک گردہ اٹھانے کی قربانی کے طور پر چڑھانا جیسے کھلیہان کی اٹھانے کی قربانی کو لےکر اٹھاتے ہو ویسے ہی اسے بھی اٹھانا
21تم اپنی پشت در پشت اپنے پہلے ہی گوندھے ہو ئے آٹے میں سےکچھ لے کر اسے خداوند کے حضور اٹھانے کی قربانی کے طور پر گذراننا۔
22اور اگر تم سے بھول ہو جائےاور تم نے ان سب حکموں پر جو خداوند نے موسیٰ کو دیے عمل نہ کیا ہو
23یعنی جس دن دے خداوند نے حکم دینا شروع کیا اس دن سے لے کر آگے آگے جو کچھ حکم خداوند نے تمہاری نسل در نسل موسیٰ کی معرفت تم کو دیا ہے
24اس میں اگر سہواً کوئی خطا ہوگئی ہو اور جماعت اس سے واقف نہ ہو تو ساری جماعت ایک بچھڑا سوختنی قربانی کے لیے گذرانے تاکہ وہ خداوند کے حضور راحت انگیز خوشبو ہو اور اس کے ساتھ شرع کے مطابق اس کی نذر کی قربانی اور اسکا تپاون بھی چڑھائے اور خطا کی قربانی کے لیے ایک بکرا گذرانے
25یوں کاہن بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے لیے کفارہ دے تو انکو معافی ملے گی کیونکہ یہ محض بھول تھی اور انہوں نے اس بھول کے بدلے وہ قربانی بھی چڑھائی جو خداوند نے حضور آتشین قربانی ٹھہرتی ہے اور خطا کی قربانی بھی خداوند کے حضور گذرانی
26تب بنی اسرائیل کی ساری جماعت کو ان پردیسیو ں کو بھی جو ان میں رہتےہیں معافی ملیگی کیونکہ جماعت کو اعتبار سے یہ سہواً ہوا
27اور اگر ایک ہی شخص سہواً خطا کرے تو وہ یکسالہ بکری خطا کی قربانی کے لیے چڑھائے
28یوں کاہن اس کی طرف سے جس نے سہواً خطا کی اسکی خطا کے لیے خداوند کے حضور کفارہ دے تو اسے معافی ملے گی
29جس شخص نے سہواً ز خطا کی ہو تم اس کے لیے ایک ہی شرع رکھنا خواہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہو یا پردیسی جو ان میں رہتا ہے
30لیکن جو شخص بے باک ہو کر گناہ کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی وہ خدواند کی اہانت کرتا ہے وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا
31کیونکہ اس نے خداوند کے کلام کی حقارت کی اور اس کے حکم کو توڑ ڈالا وہ شخص بالکل کاٹ ڈالا جائے گا اس کا گناہ اسی کے سر لگیگا
32اور جب بنی اسرائیل بیابا ن میں رہتے تھے تو ان دنوں ایک آدمی سبت کے دن ان کو لکڑیاں اکٹھی کرتاہوا ملا
33اور جن کو وہ لکڑیاں اکٹھی کرتا ہوا ملا وہ اسے موسیٰ اور ہارون اور ساری جماعت کے پاس لے گئے
34انہوں نے اسے حوالات میں رکھا کیونکہ ان کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے
35تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ یہ شخص ضرور جان سے مارا جا ئے ساری جماعت لشکر گاہ کے باہر اسے سنگسار کرے
36چنانچہ جیسا خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا اسکے مطابق ساری جماعت نے اسے لشکر گاہ سے باہر لے جا کر سنگسار کیا اور وہ مر گیا
37اور خدواند نے موسیٰ سے کہا
38بنی اسرائیل سے کہہ دو کہ وہ نسل در نسل اپنے پیراہنوں کے کنارے پر جھالر لگائیں اور ہر جھالر کے کنارے کر اوپر آسمانی رنگ کا ڈورا ٹانکیں۔
39یہ جھالر تمہارے لیے ایسی ہو کہ جب تم اسے دیکھو تو خداوند کے سب حکموںکو یاد کرکے ان پر عمل کرو اور اپنی آنکھوں کی خواہشوں کی پیروی میں زنا کاری نہ کرتے پھرو جیسا کرتے آئے ہو
40بلکہ میرے سب حکموںکو یاد کرکے انکو عمل میں لاؤ اور پنے خدا کے لیے مقدس ہو
41میں خداوند رتمہارا خدا ہو ں جو تم کو ملک مصر سے نکا ل کر لایا تاکہ تمہارا خدا ٹھہروں میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔