Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
50 verses
1اور قورح بن اضہار بن قہات بن لاوی نے بنی روبن میں سے الیاب کے بیٹوں داتن اور ابیرام اور پلت کے بیٹے اون کےساتھ مل کر اور آدمیوں کو ساتھ لیا
2اور وہ بنی اسرائیل میں سے اڑھائی سو اور اشخاص جو جماعت کے سردار اور چیدہ اور مشہور آدمی تھے موسیٰ کے مقابلہ میں اٹھے
3اور موسیٰ اور ہارون کے خلاف اکٹھے ہوکر ان سے کہنے لگے تمہارے تو بڑے دعوے ہو چلے کیونکہ جماعت کا ایک ایک آدمی مقدس ہے سو تم اپنے آ پ کو خداوند کی جماعت سے بڑا کیوں ٹھہراتے ہو ؟
4موسیٰ یہ سنکر منہ کے بل گرا
5پھر اس نے قورح اور اس کے کل فریق سے کہا کہ کل صبح خداوند دکھا دے گا کہ کو ن اس کا ہے اور کو ن مقدس ہے اور وہ اسی کو اپنے نزدیک آنے دیگا کیونکہ جسے وہ خود چنے گا اسے وہ اپنی قربت بھی دے گا
6سو اے قورح اور اسکے فریق کے لوگو ! تم یوں کرو کہ اپنا اپنا بخور دان لو
7اور ان میں آگ بھر و اور خداوند کے حضور کل ان میں آگ جلاؤ تب جس شخص کو خداوند چن لے گا وہی مقدس ٹھہرے گا اے لاوی کے بیٹوں ! بڑے بڑے دعوے تو تمہارے ہیں
8پھر موسیٰ نے قورح کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ اے بنی لاوی سنو
9کیا یہ تم کو چھوٹی بات دکھائی دیتی ہے کہ اسرائیل کے خدا نے تم کو بنی اسرائیل کی جماعت میں سے چن کر الگ کیا تاکہ وہ تم اپنی قربت بخشے اور تم خداوند کے مسکن کی خدمت کرو اور جماعت کے آگے کھڑے ہو کر اس کی بھی خدمت بجا لاؤ
10اور تجھے اور تیرے بھائیوں کو جو بنی لاوی ہیں نزدیک آنے دیا ؟ سو کیا تم اب کہانت کو بھی چاہتے ہو ؟
11اسی لیے تو اور تیرے فریق کے لوگ اور یہ سب کے سب خداوند کے خلاف اکٹھے ہوئے اور ہارون کون ہے جو تم اس کی شکایت کرتےہو؟
12پھر موسیٰٰ نے داتن اور ابیرام کو جو الیاب کے بیٹے تھے بلوا بھیجا انہوں نے کہا ہم نہیں آتے
13کیا یہ ایک چھوٹی بات ہےکہ تو ہم کو ایک ایسے ملک سے جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے نکال لایا ہے کہ ہم کو بیابا ن میں ہلاک کرے اور اس پر بھی یہ طرہ ہے کہ اب تو سردار بن کر ہم پر حکومت جتاتا ہے ؟
14ماسوا اسکے تو نے ہم کو اس ملک میں بھی نہیں پہنچایا جہا ں دودھ اور شہد بہتا ہے اور نہ ہم کو کھیتوں اور تاکستانو ں کا وارث بنایا کیا تو ان لوگوں کی آنکھیں نکال ڈالے گا ؟ ہم تو نہیں آنے کے
15تب خداوند موسیٰ طیش میں آ کر خداوند سے کہنے لگا تو ان کے ہدیہ کی طرف توجہ مت کر میں نے ان سے ایک گدھا بھی نہیں لیا نہ ان میں سے کسی کو کوئی نقصان پہنچایا ہے
16پھر موسیٰ نے قورح سے کہا کل تو اپنے سارے فریق کے لوگوں کو لے کر خداوند کے آگے حاضر ہو تو بھی ہو اور وہ بھی ہو ں اور ہارون بھی ہو
17اور تم میں سے ہر ایک شخص اپنا بخور دان لے کر اس میں بخور ڈالے اور تم اپنے اپنے بخور دان کو جو شمار میں ڈھائی سو ہونگے خداوند کے حضور لاؤ تو بھی اپنا بخور لانا اور ہارون بھی لائے
18سو انہوں نے اپنا اپنا بخور دان لیکر ان میں بخور ڈالا اور آگ رکھ کر اس پر بخور ڈالا ور خیمہ اجتماع کے دروازہ پر موسیٰ اور ہارون آ کر کھڑے ہوئے
19اور قورح نے ساری جماعت کو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر ان کے خلاف جمع کر لیا تھا تب خداوند کا جلال ساری جماعت کے سامنے نمایاں ہوا ۔
20اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا
21کہ تم اپنے آپ کو اس جماعت سے بالکل الگ کر لو تاکہ میں ان کو ایک پل میں بھسم کروں
22تب وہ منہ کے بل گر کر کہنے لگے اے خدا ! سب بشر کی روحوں کے خدا ! کیا ایک آدمی کے گناہ کے سبب سے تیرا قہر ساری جماعت پر ہوگا ؟
23تب خداوند نے موسیٰ سے کہا
24تو جماعت سے کہہ کہ وہ قورح اور داتن اور ابیرام کے خیموں کے آس پاس سے دور ہٹ جاؤ
25اور موسیٰ اٹھ کر داتن اور ابیرام کی طرف گیا اور بنی اسرائیل کے بزرگ اس کے پیچھے پیچھے گئے
26اور اس نے جماعت سے کہا کہ ان شریر آدمیوں کے خیمہ سے نکل جاؤ تا نہ ہو کہ تم بھی ان کے سب گناہوں کے سبب سے نیست ہو جاؤ
27سو وہ لوگ قورح داتن اور ابیرام کے خیموں کے آس پاس سے دور ہٹ گئے اور داتن اور ابیرام اپنی بیوی اور بیٹو ں اور بال بچوں سمیت نکل کر اپنے خیموںکے دروازوں پر کھٹرے ہوئے
28تب موسیٰ نے کہا کہ اس سے تم جان لو گے کہ خداوند نے مجھے بھیجا ہے کہ یہ سب کام کروں کیونکہ میں نے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کیا
29اگر یہ آدمی ویسی ہی موت سے مریں جو سب لوگوں کو آتی ہے یا ان پر ایسے ہی حادثے گذریں جو سب پر گذرتے ہیں تو میں خداوند کا بھیجا ہوا نہیں ہو ں
30پر اگر خداوند اپنا نیا کرشمہ دکھائے اور زمین اپنا منہ کھول دے اور انکو انکے گھر بار سمیت نگل جائے اور یہ جیتے جی پاتال میں سما جائیں تو تم جاننا کہ انہوں نے خداوند کی تحقیر کی ہے
31اس نے یہ باتیں ختم ہی کیں تھیں کہ زمین ان کے پاؤں تلے پھٹ گئی
32اور زمین نے اپنا منہ کھول دیا اور انکو انکے گھر بار کو اور قورح کے ہاں سب آدمیوں کو اور ان کے سب مال و اسباب کو نگل گئی
33سو وہ اور انکا سارا گھر بار جیتے جی پاتال میں سما گئے اور زمین ان کے اوپر برابر ہو گئی اور وہ جماعت میں سے نابود ہوگئے
34اور سب اسرائیلی جو ان کے آس پاس تھے ان کا چلانا سن کر یہ کہتے ہو ئے بھاگے کہ کہیں زمین ہم کو بھی نہ نگل نہ لے
35اور خداوند کے حضور سے آّگ نکلی اور ان ڈھائی سو آدمیوں کو جنہوں نے بخور گذرانا تھا بھسم کر ڈالا
36اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
37ہارو ن کاہن کے بیٹے الیعزرسے کہہ کہ وہ بخور کو دانوں کے شعلوں میں سے اٹھا لے اور آگ کے انگاروں کو ادھر ہی بکھیر دے کیونکہ وہ پاک ہیں
38جو خطا کار اپنی ہی جان کے دشمن ہو ئے ان کے بخور دانوں کے پیٹ پیٹ کر پتر بنائے جائیں تاکہ وہ مذبح پر منڈھ جائیں کیونکہ انہوں نے اسے خداوند کے حضور رکھا تھا اس لیے وہ پاک ہیں اور بنی اسرائیل کے لیے ایک نشان بھی ٹھہریں گے
39تب الیعزر کاہن نے پیتل کے ان بخور دانوںکو اٹھا لیا جن میں انہوں نے جو بھسم کردیے گئے تھے بخور گذرانا تھا اور مذبح پر منڈھنے کے لیے انکے پتر بنوائے
40تاکہ بنی اسرائیل کے لیے ایک یاد گار ہو کہ کوئی غیر شخص جو ہارون کی نسل سے نہیں خداوند کے حضور بخور جلانے کو نہ جائے تا نہ ہو کہ وہ قورح اور اسکے فریق کی طرح ہلاک ہو جیسا خداوند نے اس کو موسیٰ کی معرفت بتا دیا تھا
41لیکن دوسر ے دن بنی اسرائیل کی ساری جماعت نے موسیٰ اور ہارون کی شکایت کی اور کہنے لگے کہ تم نے خداوند کے لوگوں کو مار ڈالا ہے
42اور جب وہ جماعت موسیٰ اور ہارون کے خلاف اکٹھی ہو رہی تھی تو انہوں نے خیمہ اجتماع کی طرف نظر کی اور دیکھا کہ اس پر ابر چھایا ہوا ہے اور خداوند کا جلال نمایاں ہے
43تب موسیٰ اور ہارون خیمہ اجتماع کے سامنے آئے
44اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ۔
45تم اس جماعت کے بیچ سے ہٹ جاؤ تو میں ایک پل میں ان کو بھسم کر ڈالوں تب وہ منہ کے بل گرے۔
46اور موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ اپنا بخور دان لے اور مذبح پر سے آگ لے کر اس میں ڈال اور اس پر بخور جلا اور جلد جماعت کے پاس جا کر ان کے لیے کفارہ دے کیونکہ خداوند کا قہر نازل ہوا ہے اور وبا شروع ہوگئی ۔
47موسیٰ کے کہنے کے مطابق ہارون بخور دان لے کر جماعت کے بیچ دوڑتا ہوا گیا اور دیکھا کہ وبا لوگوں میں پھیلنے لگی ہے سو اس نے بخور جلایا اور ان لوگوں کے لیے کفارہ دیا
48اور وہ مردوں اور زندوں کے بیچ میں کھڑا ہوا تب وبا موقوف ہوئی
49سو علاوہ ان کے جو قورح کے معاملہ کے سبب سے ہلاک ہوئے تھے چودہ ہزار سات سو آدمی وبا سے چھیج گئے
50پھر ہارون لوٹ کر خیمہ اجتماع کے دروازہ پر موسیٰ کے پاس آیا اور وبا موقوف ہوگئی ۔